یہ کیسے لوگ ہیں ؟

عقیلہ جمیل خٹک صاحبہ ایک نامور ماہرِ تعلیم اور میرے ایک محترم دوست کی والدہ ہیں ۔ پچاس برس سے زائد علم کے فروغ میں مصروف رہیں۔ نجانے کتنےطلبا و طالبات ان کی آغوشِ تربیت سے کامیابی کے راستوں پہ رواں دواں ہوئے۔ انھوں نے میری کتاب ’’اخوت کا سفر‘‘ پڑھی تو مواخات کے فلسفہ کی گرویدہ ہوگئیں ۔ پچھلے دنوں میں کراچی گیا تو خصوصی طور پر ملنے آئیں ۔ پچاسی برس کی عمر ‘ نور سے بھرا چہرہ ‘ ہشاش بشاش اور مکمل تندرست و توانا ۔ وہ اس عمر میں بھی کراچی کی سڑکوں پہ خود گاڑی چلاتی ہیں۔ ان کی نرم اور گداز گفتگو دل میں اتر تی رہی۔ ایسی ایسی باتیں جو اب ہم نہ کہتے ہیں نہ سنتے ہیں ۔ اس عمر میں چہرے پہ بکھرا یہ نور ایک گہرے سکون اور طمانیت کا اظہار تھا۔ جو لوگ سچ بولتے ہیں ‘ نیکی کرتے ہیں اور راہوں میں پڑے کانٹے اٹھاتے ہیں وہ ایسے ہی دلکش اور پُر نور ہوتےہیں ۔ اس مختصر گفتگو نے مجھے کئی پیغام دے دیئے۔ ایمان ‘ احسان‘ اخلاص اور ایثار ۔ خدا ان پہ ہمیشہ اپنی رحمتوں کی بارش کرتا رہے ۔

Comments